چنتامنی:8 /دسمبر(محمد اسلم/ایس او نیوز )کم عمر میں بچوں کو سکھائے جانے والے آداب تا عمر اسے یاد رہتے ہیں اور زندگی کے ہر پہلو میں انہیں وہ کام آتے ہیں والدین اور اساتذہ کو چاہئے کہ بچوں کی صحیح تربیت کریں یہ بات چنتامنی حلقے کے رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی نے کہی۔انہوں نے آج یہاں کے شمشٹہلی، چوڈاریڈی پالیہ وینکٹ گیری کوٹے گرلس سرکاری اسکولوں میں منعقد سائیکلوں کی تقسیم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلباء کافی محنت و مشقت کے ساتھ تعلیم حاصل کریں۔ انہوں نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تعلیمی میدان طلباء کے لئے جوہر دکھانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے اور فلسفہ حیات اور مقصد حیات تعلیمی وابستگی سے حاصل ہوتا ہے ایک استاد علم کو بچوں تک منتقل کرتا ہے بچے کو علم سے آراستہ و پیراستہ کرتے کرتے اس راستے پر لاکھڑا کردیتا ہے کہ جہاں سے اس طالب علم کو صرف ترقی ہی نظر آتی ہے اور یہی بچے پڑھ لکھ اور اعلیٰ مقام حاصل کرکے استاد کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو اس وقت استاد کو جو خوشی میسر ہوگی اس کا اندازہ لگانا نا ممکن ہے دنیا میں درس دینا ایک ایسا پیشہ ہے جو بچوں کو صحیح راستہ دکھا سکتا ہے آج دنیامیں جتنے بھی ڈاکٹر ز،انجنےئرز،سائنس دان اور دیگر ماہرین کی کامیابی کی وجہ معیاری اور اچھی تعلیم ہے تعلیم ہمیں شعور سکھاتی ہے اچھائی اور برائی میں تفریق سکھاتی ہے بڑوں کا ادب چھوٹوں کا لحاظ یہاں تک کہ تعلیم ہمیں فرش سے عرش تک لے جاتی ہے یہ کہ ہمارے ہر عمل سے تعلیم کا معیار جھلکتا ہے تعلیم ہی ہمارا مقصد حیات کا تعین کرکے ایک غیر معمولی انسان کو مثالی انسان بناتی ہے دنیا میں ہر چیز فانی ہے لیکن علم رہتی دنیا تک قائم رہتا ہے لہذا بچوں کو تعلیم دینا صرف نوکری یا ملازمت کا ایک حصہ نہیں ہے بلکہ ان معصوموں کی آنکھوں مستقبل کی روشنی پیدا کرنا ہے جو پڑھ لکھ کر ملک کی باگ ڈور سنبھالنا چاہتے ہیں تعلیم کا شعبہ ان تمام کا منظر ہے جو اس قوم کی اصلاح کے ساتھ ساتھ ایک بہتر مستقبل کی خواہاں ہیں تعلیم کے شعبے میں عزت ،وقارپیسہ ہر چیز میسر ہے صرف ضرورت خلوص نیت کی ہے۔
رُکن اسمبلی کرشناریڈی نے اور کہا کہ طلباء عمدہ تعلیم حاصل کرکہ زندگی کو سدھرلیں مرکزی اور ریاستی حکومتیں ملک کے ہر ایک بچے کو تعلیم حاصل کرانے کے مقصدر سے بہت کچھ اسکیمیں جاری کررہی ہے لیکن پھر بھی ملک میں کئی بچے بچیاں تعلیم کے میدان سے دور ہے ۔رُکن اسمبلی نے کہا کہ کوئی بھی قوم ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتی جب تک ان کا تعلیمی معیار بلند نہ ہو اور دنیا میں انہی اقوام نے اپنا وجود مستحکم کیا جنہوں نے تعلیم کی روشنی کو منور کیاانہوں نے مزید کہا کہ اساتذہ بچوں کی زندگی کو بچا بھی سکتے ہیں اور بگاڑ بھی سکتے ہیں کیونکہ ان کے ہاتھوں میں تعلیم دینے کا کام اللہ نے سونپا ہے استاد ایسے بنیں جب طلباء کو تعلیم دیں تو وہ زندگی بھر تمہیں یاد رکھے جب استاد پرائمری سے تعلیم دیتے ہیں ان اساتذہ کو یاد کیا جاتا ہے اور درمیان میں جو طلباء تعلیم دیتے ہیں انہیں یا د نہیں کرتے اساتذہ طلباء کے دلوں میں اترنا ہے دلوں سے اتارنا نہیں چا ہئے اساتذہ چوری نہ کریں چوری کا مقصد رقم چرا نا نہیں جب اسکول کو تاخیر سے جاتے ہیں وہ بھی چوری ہے اساتذہ اللہ کو ڈر کر کام کر نا ہے۔ انہوں نے اساتذہ کو مشور دیتے ہوئے کہا کہ اساتذکو طلباء کا دل توڑنے کی اجازت ہر گزنہیں ہے اگر بچے کا دل ٹوٹ گیا وہ تعلیم حا صل کرنے میں دلچسپی کم کر دیتا ہے۔ آج ہمارے سماج میں بیشمار سرمایہ دار ایسے ہیں جن کے پاس کروڈوں روپئے ہیں ویسے سرمایہ دار لوگ غریب بچوں کی نشاندہی کرکہ انہیں تعلیم دلوانے کی کوشش کی جائے سرکاری اسکولوں میں کافی معیاری تعلیم کے باوجود بھی طلبا کی حاضری میں غیر متوقع کمی آئی ہے۔اور اسکولوں کو بند کئے جانے کے لئے اساتذہ ذمہ دار ہیں اگر وہ تنخواہ کی بجائے طلبہ پر محنت کرتے تو اسکول بند ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔اس موقع پر بلدیہ صدر سجاتا شیونا اسٹانڈنگ کمیٹی کے چیرمین شری رامپا کونسلر شرنیواس ریڈی منجوناتھ پرکاش کرشنپاوی۔امر،پرائمری ٹیچر اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری کے۔رونپاعائشہ سلطانہ راجنا سمیت کئی ٹیچرس وغیرہ شریک رہے۔